Uncategorized

پروگرامرز نے بٹ کوائن مائننگ کمپیوٹر کو مرغی خانے کا ہیٹر بنا دیا

واضح رہے کہ کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ (Bitcoin) بنانے کےلیے طاقتور کمپیوٹر کے ساتھ اضافی ’گرافکس پروسیسنگ یونٹ‘ (جی پی یو) استعمال کرتے ہوئے پیچیدہ ریاضیاتی معمے حل کرنے پڑتے ہیں۔ اس عمل کو ’ڈیٹا مائننگ‘ کہا جاتا ہے اور اسی بناء پر بٹ کوائن تیاری بھی ’مائننگ‘ کہلاتی ہے۔

البتہ مائننگ کے دوران کمپیوٹر کا جی پی یو بہت زیادہ بجلی کھاتا ہے اور بہت زیادہ گرم بھی ہوجاتا ہے۔ لہذا اسے ٹھنڈا رکھنے کےلیے بھی اضافی بندوبست کرنا پڑتا ہے۔

اکثر پیشہ ور بٹ کوائن مائنرز ایک ساتھ کئی جی پی یوز استعمال کرتے ہیں تاکہ کم وقت میں زیادہ بٹ کوائنز کی مائننگ کرسکیں۔

خرچہ بچانے کےلیے وہ عموماً ان جی پی یوز کو ایک چھوٹے لیکن کثیر المنزلہ ریک (کھلی الماری یا rig) میں رکھ کر ایک طرف پنکھا لگا دیتے ہیں جس کی ہوا، جی پی یوز کی گرمی منشتر کرکے انہیں ٹھنڈا رکھنے میں مدد کرتی ہے۔

تاہم یہ سارا انتظام جس کمرے میں کیا گیا ہوتا ہے، اگر وہ چاروں طرف سے بند ہو تو جی پی یوز کی وجہ سے وہ بھی خاصا گرم ہوجاتا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، جی پی یوز کی اسی خاصیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض امریکی مائنرز نے سردی میں مرغی خانوں کو گرم رکھنے کےلیے ان میں جی پی یوز رکھنا شروع کردیئے ہیں تاکہ مائننگ بھی ہوتی رہے اور اضافی ہیٹر کی ضرورت بھی نہ پڑے۔

یہ بھی بتاتے چلیں کہ ’جی پی یو‘ ایک ایسا طاقتور پروسیسنگ یونٹ ہوتا ہے جو متحرک کمپیوٹر گرافکس کو تیزی سے لوڈ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی لئے کوئی بھی گیمنگ کمپیوٹر ’جی پی یو‘ کے بغیر مکمل تصور نہیں کیا جاتا۔

اپنی اسی پروسیسنگ پاور کی وجہ سے جی پی یوز کو برسوں سے بٹ کوائن سمیت ہر طرح کی کرپٹو کرنسی کی مائننگ میں استعمال کیا جارہا ہے۔

مائنرز نے جی پی یوز سے وابستہ ایک اہم مسئلے یعنی حرارت کے اخراج کو دوسرے مسئلے کے حل میں بڑی مہارت سے استعمال کرتے ہوئے اپنی ذہانت کا منفرد ثبوت دیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button